بھٹکل:یکم مئی (ایس اؤ نیوز ) سوشیل میڈیا خاص کر فیس بک کے ذریعے خواتین کی مسلسل بے عزتی کی جارہی ہے، خصوصی طورپر نامدھاری عورتوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، مگر تعجب اس بات پر ہے کہ مقامی ایم ایل اے جو خود بھی نامدھاری طبقہ سے تعلق رکھتا ہے، اس طرح کی حرکتوں کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کررہا ہے یہاں تک کہ محکمہ پولس کی جانب سے بھی کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس بات کا الزام نامدھاری مہیلا کانگریس صدرنینا شری دھر نائک نے لگایا ۔
بھٹکل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نامدھاری خواتین نے بتایا کہ سوشیل میڈیاپر خاص کر فیس بک پر ہماری ہتک کی جارہی ہے، ہمیں بدنام کرتےہوئے غلط اور بے بنیاد مسیجس پوسٹ کئے جارہےہیں، اس سلسلےمیں ہم نے محکمہ پولس میں شکایت درج کی ہے، مگر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہمارےہی طبقہ کے یعنی نامدھار ی کے رکن اسمبلی ہیں انہیں بھی اس تعلق سے بتایاگیا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اب و ہ کس منہ سے خواتین کے پاس ووٹ مانگنےآئیں گے ہمیں سمجھ میں نہیں آرہاہے۔ ہماری توہین کی گئی ، بدنام کیاگیا ، ہتک آمیز تحریریں پوسٹ کئے جاتے رہے ، رکن اسمبلی کو سب پتہ ہے لیکن وہ خاموش رہے کوئی کارروائی نہیں کی ، ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا ۔ محکمہ پولس اور رکن اسمبلی کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو ہم مجبو ر ہوکر صحافیوں کے سامنے آکر اپنا دکھڑا سنا رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود خواتین نے رکن اسمبلی اور ان کے چیلوں پر راست الزام لگاتے ہوئے کہاکہ رکن اسمبلی کے چیلے ہی ہماری عورتوں کو سوشیل میڈیا پر بدنام کررہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے باقاعدہ پولس محکمہ میں شکایت درج کی تھی ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ، ریاست میں انہی کی حکومت ہونے کے باوجود ہمیں کوئی انصاف نہیں ملا تواس کے ذمہ دار رکن اسمبلی ہی ہوئے نا؟ ۔ خواتین نے کہا کہ شکایت درج ہوکر اتنے دن ہوئے کیوں ابھی تک خاطی گرفتار نہیں ہوئے ؟ کیا پولس محکمہ کے پاس طاقت نہیں ہے ؟ ۔ عورتوں نےاپنی بدنامی کےلئے راست طورپر پولس محکمہ اور رکن اسمبلی کو ہی ذمہ دار بتایا ۔
خواتین نے کہاکہ سوشیل میڈیا پر جتنی عورتوں کے خلاف بدنامی کی جارہی ہے وہ سب رکن اسمبلی کو پتہ ہے، ہم نے جے ڈی نائک ، شیوانند نائک اور منکال وئیدیا کا دور بھی دیکھا ہے ان 15برسوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ لیکن سنیل نائک کے دور میں صرف نامدھاری عورتوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ کئی اور عورتوں کے خلاف بھی بدنامی اور ہتک کی جارہی ہے ۔
سیاست میں عورتوں کو آگے بڑھانے کےلئے حکومت 50فی صد ریزویشن دیتی ہے لیکن ایسے حالات پیدا کئے گئے تو عورتیں کہاں سیاست میں آگے بڑھیں گے۔ سوشیل میڈیا پر ہمارے خلاف جس طرح ہتک آمیز پوسٹ کئےجارہےہیں اس سے خود ہمیں شرم آرہی ہے۔فیس بک کھولنے سے تک بیزارگی محسوس ہورہی ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم ایک عزت دار خاندان کی بہو، بیٹیاں ہیں، ہمارےخلاف اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ خود رکن اسمبلی کو سب کچھ معلوم ہے انہیں چاہئے تھا کہ وہ گھر کی عورتوں کی حفاظت کرتے ، اب خود وہ ہمارے خلاف ہونےو الی سازشوں کا ساتھ دے رہے ہیں اب اگر ہم ان کا ساتھ دیں توکیسے ، کل کو کیانہیں کریں گے۔
فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ کے ذریعے ہماری ہتک کی جارہی ہے۔ اتنی غلاظت بھری گئی ہے کہ ہمیں فیس بک اوپن کرنے سے بیزارگی محسوس ہورہی ہے۔ ہم کانگریسی خواتین کے خلاف ہی نہیں بلکہ کئی عورتوں کے خلاف ہتک کی جارہی ہے۔ عورت ، عورت ہوتی ہےاس کو بدنام نہیں کرنا چاہئے۔ عورت کو عورت کی ہی نظر سے دیکھنا چاہئے، پارٹی کی نظر سے نہیں۔ اگر یہ معاملہ یہیں پر روک دیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ خواتین فلاح وبہبودی کے محکمہ اور دیگر محکمہ جات میں بھی شکایت درج کریں گے اور ریاستی سطح پر احتجاج کریں گے۔ پریس کانفرنس میں میگھنا نائک، سندھو بھاسکرنائک، پنچایت صدر ریوتی شنکر نائک، پدما ناگیش نائک، بے بی نائک وغیرہ موجود تھیں۔